ہم اُس کا غم بھلا قسمت پہ کیسے ٹال سکتے ہیں
ہمارے ہاتھ میں ٹوٹا ہے وہ گر کر نہیں ٹوٹا
تیرے بھیجے ہوئے تیشوں کی دھاریں تیز تھیں حافی
مگر ان سے یہ کوہ ِ غم زیادہ تر نہیں ٹوٹا
طلسم ِ یار میں جب بھی کمی آئی، نمی آئی
اُن آنکھوں میں جنہیں لگتا تھا جادوگر نہیں ٹوٹا
سروں پر آسماں ہاتھوں سے آئینے نظر سے دل
بہت کچھ ٹوٹ سکتا تھا بہت کچھ پر نہیں ٹوٹا
تازہ غزل ۔۔۔۔۔
مسلسل وار کرنے پر بھی ذرہ بھر نہیں ٹوٹا
میں پتھر ہو گیا لیکن ترا خنجر نہیں ٹوٹا
ترے ٹکرے مری کھڑکی کے شیشوں سے زیادہ ہیں
نصیب اچھا ہے میرا تو مرے اندر نہیں ٹوٹا
مجھے برباد کرنے تک ہی اُس کے آستاں ٹوٹے
مرا دل ٹوٹنے کے بعد اُس کا گھر نہیں ٹوٹا
10K Followers 810 Followingwriter of 'paltoo bohemian(पालतू बोहेमियन)', a widely appreciated memoir of manohar shyam joshi, moderator of https://t.co/EdGzNe9hBt and translator
719K Followers 238 FollowingWorld's largest archive of Urdu poetry and literature. Celebrating the language of love. Organiser of @JashneRekhta. #rekhta #jashnerekhta