خیبر پختونخوا کے حوالے سے چند عناصر جعلی خبریں اور پروپیگنڈا پھیلایا رہے ہیں
سوشل میڈیا پر چند عناصر یہ خبریں پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ضم شدہ اضلاع کے بعض علاقوں میں بڑے پیمانے پر آپریشنز شروع کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے
یہ خبریں بالکل بے بنیاد اور جعلی ہیں۔
انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز (IBOs) زمینی صورتحال اور خطرات کے جائزے کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں، جیسا کہ ماضی میں بھی معمول کے مطابق ہوتا رہا ہے۔
کسی بھی نئے بڑے آپریشن کے آغاز سے متعلق خبریں من گھڑت اور جعلی ہیں، جن کا مقصد بلاوجہ بے چینی پھیلانا اور مقامی آبادی میں تشویش پیدا کرنا ہے
خیبر پختونخوا کے حوالے سے چند عناصر جعلی خبریں اور پروپیگنڈا پھیلایا رہے ہیں
سوشل میڈیا پر چند عناصر یہ خبریں پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ضم شدہ اضلاع کے بعض علاقوں میں بڑے پیمانے پر آپریشنز شروع کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے
یہ
#یوتھیا_بھگاو_صوبہ_بچاو#ایمرجنسی_نافذ_کرو
🚨 ملک بچاٶ
کے پی کے میں گورنر راج لگاٶ
ایک طرف بنوں کرم اور ضم شدہ اضلاع میں بدامنی بڑھ رہی ہے اور شدت پسند و خوارج عناصر سر اٹھا رہے ہیں تو دوسری طرف ان کے خلاف ٹھوس کارروائی کرنے کے بجائے صوبائی انتظامیہ لچکدار اور مشکوک پالیسی اپناٸے ہوٸے ہے۔
پس پردہ انتظامیہ ہی خوارج کی سہولت کاری میں ملوث دکھاٸی دیتی ہے۔ اس کے علاوہ افسوسناک پہلو صوبائی وسائل کا سیاسی مقصد کے لیے بے دریغ استعمال ہے۔ اسلام آباد پر چڑھائی اور لانگ مارچ کے لیے خیبر پختونخوا کی سرکاری مشینری ریسکیو 1122 کی گاڑیاں کرینیں اور صوبائی خزانے کے کروڑوں روپے بے دردی سے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
ان اقدامات پر پشاور ہائیکورٹ نے بھی نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ سے سرکاری وسائل کے سیاسی زیاں پر جواب طلب کیا۔
خیبر پختونخوا کے عوام جو دہشت گردی سے نبرد آزما ہیں اور صحت تعلیم اور امن و امان کی بحالی کے منتظر ہیں انہیں یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کو عوامی فلاح سے زیادہ اپنی سیاسی ضد اور محاذ آرائی کی فکر ہے۔
جب کوئی صوبائی حکومت امن و امان قائم رکھنے کے بجائے وفاق پر چڑھائی کے لیے صوبائی مشینری کا استعمال کرے اور سیکیورٹی چیلنجز سے غافل ہو جائے تو ریاست کو بچانا پہلی آئینی ترجیح بن جاتی ہے۔
موجودہ نازک صورتحال کا تقاضا ہے کہ ملک کی سلامتی امن و امان اور قانون کی بالادستی کے لیے فوری طور پر صوبے میں گورنر راج نافذ کیا جائے تاکہ عوامی وسائل کا زیاں روکا جا سکے اور خوارج کے خلاف بلا تفریق کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
821 Followers 806 Followingخدمات طلابية متكاملة
كتابة أبحاث كتابة مشاريع كتابة رسائل
حل واجبات حل اسايمنت حل تكاليف
عروض بوربوينت برزنتيشن بروبوزال
كادر أكاديمي متكامل من افظل المختصين